امریکی عوام کھانوں پر جراثیم کش ادویات چھڑکنے لگے –

واشنگٹن : کورونا وائرس سے ہونے والے انفیکشن سے بچنے کے لئے امریکی شہریوں کی بڑی تعداد جراثیم کش ادویات سے اپنی غذاؤں کو دھو رہی ہے۔

گزشتہ ماہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ماہرین صحت سے پوچھے گئے ایک سوال کے بعد کہ کیا اس طرح کی مصنوعات کو جراثیم کش ادویات کے اسپرے سے کوویڈ19 کا علاج ہوسکتا ہے یا نہیں؟

اس کے فوراً بعد ہی کیے گئے ایک سروے کے مطابق ایک تہائی سے زیادہ امریکیوں نے کورونا وائرس انفیکشن کی روک تھام کے لئے کلینرز اور جراثیم کُش اشیاء کا غلط استعمال کرنا شروع کردیا۔

امریکہ میں بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مرکز سی ڈی سی پی کی سروے رپورٹ کے مطابق بلیچ سے گھریلو صفائی ستھرائی یا نالیوں پر جراثیم کش ادویات  تو کی جاسکتی ہیں تاہم کھانے پر اسپرے اور  جان بوجھ کر اس سامنے  سانس لینا یا انہیں پی جانا انتہائی خطرناک ہے۔

سروے ٹیم کی قیادت کرنے والے عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ سروے کلینر اور جراثیم کش ادویات کے استعمال کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور صحت مراکز میں فون کالز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر کیا گیا۔

رواں سال اپریل کے آخر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس ٹاسک فورس بریفنگ کے دوران سائنسدانوں سے پوچھا کہ کیا وائرس سے متاثرہ افراد کے جسموں میں جراثیم کُش دوا ڈالنے سے بیماری کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے؟

جسے سن کر ماہرین صحت ششدر رہ گئے انہوں نے ہدایت کی کہ وعوام کسی کھانے پینے کی اشیاء پر کسی بھی قسم کا کلینر یا جراثیم کش دوا کا استعمال ہر گز نہ کریں۔

سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 39فیصد لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے کورونا وائرس سے بچنے کیلئے یہ خطرناک کام کیا کہ جراثیم کش ادویات اور کلیبنر کو پی لیا یا اس سے غرارے کیے اس کے علاوہ کچھ لوگوں نے اس سے اپنے پورے جسم پر اسپرے کیا۔

سی ڈی سی نے تجویز پیش کی کہ کوویڈ 19 کے روک تھام کے سرکاری ہدایات جو ہاتھوں کی بار بار صفائی اور چہرے پر ماسک سے متعلق ہیں ان پر عمل کریں اور کلینرز اور جراثیم کُش ادویات کے غلطاستعمال سے اجتناب کرتے ہوئے انہیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔

0

Tweet
20

Comments

comments




Source link

About Raja

Check Also

کیا اومیکرون پانچ سال سے کم عمر بچوں میں بھی تیزی سے پھیلتا ہے؟ –

کیپ ٹاؤن: کیا اومیکرون پانچ سال سے کم عمر بچوں میں بھی تیزی سے پھیلتا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *