آپ کے مسائل کا حل اسلام کی روشنی میں

مفتی غلام مصطفی رفیق
مقروض شخص کاعمرہ کرنا
سوال:پوچھنایہ ہے کہ ایک شخص مقروض ہے اور وہ عمرہ کرناچاہ رہاہے کیامقروض آدمی عمرے پر جاسکتاہے؟اس کا عمرہ ادا ہوجائے گا؟
جواب:قرض کی ادائیگی کی فکر کرنااہم اور ضروری ہے،تاہم مقروض شخص عمرہ کی ادائیگی کے لیے جاسکتاہے اور عمرہ ادا ہوجائے گا۔
موزے پہن کر نماز پڑھنا
سوال:نماز میں ٹخنے کھلے رکھنے کا حکم ہے اور چھپانے کی ممانعت ہے تو کیاموزے پہن کر نماز پڑھنادرست ہے اور اس حکم کے خلاف نہیں؟
جواب:ٹخنے کھلے رکھنے سے مراد یہ ہے کہ شلواریاپینٹ (جولباس پہناہو)کے ذریعے ٹخنے چھپے ہوئے نہ ہوں ،اور یہ حکم نماز کے ساتھ مخصوص نہیں ،عام حالات میں بھی شلوار ٹخنے سے اوپررکھنے کاحکم ہے اور احادیث مبارکہ میں شلوار ٹخنوں سے نیچے رکھنے والوں سے متعلق سخت وعیدیں آئی ہیں۔موزے پہن کر نماز پڑھنادرست ہے اور موزوں کے ذریعے ٹخنوں کاچھپ جانااس حکم میں داخل نہیں۔امام نسائی رحمہ اللہ نے نسائی شریف میں یہ عنوان قائم فرمایاہے:باب الصلوۃ فی الخفین یعنی موزے پہن کر نماز اداکرنے سے متعلق احادیث اور یہ روایت ذکر فرمائی ہے:”ہمام سے روایت ہے کہ میں نے حضرت جریررضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے پیشاب کیا پھر پانی طلب فرمایا اور وضو فرمایا اور موزوں پر مسح فرمایا پھر کھڑے ہوئے اور نماز ادا فرمائی۔ کسی نے ان سے دریافت کیا کہ تم نے موزوں سے نماز ادا کی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طریقہ سے کرتے ہوئے دیکھا ہے”۔
قرض دے کر نفع حاصل کرناحرام ہے
سوال:مجھ سے ایک دوست نے یہ مسئلہ معلوم کرنے کا کہا ہے کہ اگر ہم کسی شخص کو پانچ لاکھ ر وپے نقد دیتے ہیں اس لیے کہ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں اور وہ ہمارے پیسوں سے جانور خرید کر فروخت کرتاہے اور کچھ عرصہ بعد ہماری رقم ہمیں پانچ لاکھ کی بجائے چھ لاکھ واپس کرتاہے کیا یہ صورت درست ہے؟اگر درست نہیں ہے تو صحیح صورت کیا ہوسکتی ہے؟
جواب:کسی شخص کو رقم بطور قرض کے دے کر اس پر نفع حاصل کرناسود کہلاتاہے جوکہ ناجائز اورحرام ہے،قرآن کریم واحادیث مبارکہ میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں،لہذا اس طرح آپ کا کسی شخص کو پانچ لاکھ روپے دے کر ایک لاکھ روپے نفع حاصل کرناجائز نہیں ہے۔البتہ اگر آپ کسی کے ساتھ کاروبار میں نفع ونقصان دونوں کی بنیاد پر شراکت داری اختیارکریں اور نفع کی تقسیم کاتناسب حصص(فیصد)کے لحاظ سے طے کرلیں تو یہ جائز ہے۔اسی طرح آپ کا سرمایہ ہو اور کوئی شخص عمل (محنت )کرنیوالااور آپ کے سرمایہ سے وہ کاروبار کرے اور نفع آپس میں فیصد کے اعتبار سے تقسیم کرلیں یہ بھی درست ہے ۔
نماز میں رکوع چھوٹ گیا تو کیاکریں؟
سوال:اگر نماز میں رکوع نہ کرسکیں اور سیدھے سجدے میں چلے جائیں پھر پتہ چلے کہ رکوع چھوٹ گیا ہے اب کیاکریں؟
جواب:اگر کسی سے نماز میں بھولے سے رکوع چھوٹ جائے تویادآتے ہی نماز کے اندراندر رکوع ادا کرلے اور پھر نماز کے آخرمیں سجدہ سہو کرلے نماز درست ہوجائے گی۔(فتاوی ہندیہ 1/127،ط:رشیدیہ)


Source link

About Raja

Check Also

صبر قرآن کریم کی روشنی میں

دنیاوی کامیابی اور اُخروی کامرانی کا درخشاں اصولمولانا محمد الیاس گھمناللہ تعالیٰ کی طرف سے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *