تھرپارکر میں جین مت کے قدیم معبد –

سندھ کے صحرائی علاقے تھر اور اس کے گردونواح میں کبھی جین مت کے ماننے والوں کی بڑی تعداد آباد تھی، مگر تقسیمِ ہند کے بعد حالات اور معاشی مسائل کی وجہ سے یہ لوگ ہجرت کر کے بھارت یا سات سمندر پار کہیں جا بسے۔

آج تھر میں جین مت کے قدیم مندر مخدوش اور خستہ حال یادگار کے طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ جین مت کی بنیاد تقریباً چھے سو سال قبل رکھی گئی تھی۔

بعض محققین اسے ہندو مذہب کی ایک شاخ کہتے ہیں، لیکن اکثریت کے مطابق یہ بدھ مت کی تعلیمات سے زیادہ قریب ہے۔ تاریخ کے صفحات میں جین مت کے بانی کا نام مہاویر بتایا گیا ہے۔

تھر کا ضلعی ہیڈ کوارٹر مٹھی ہے جس سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ویرا واہ، بھوڈیسر اور ننگر پارکر شہر میں جین مت کی عبادت گاہیں قائم ہیں اور یہ اس خطے کی قدیم عمارتیں ہیں۔ تاریخ نویسوں کے مطابق جین مت کے پیروکاروں کا ایک پیشہ تجارت تھا اور بحری راستے خریدوفروخت کا بہترین ذریعہ تھا۔

تیرھویں صدی میں جب یہ لوگ خوش حال اور مال دار ہو گئے تو مل کر اپنے مندر تعمیر کیے اور جب تک یہاں رہے انھیں آباد رکھنے کے ساتھ ان کی دیکھ بھال اور ان کا انتظام بھی خوبی سے چلاتے رہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی اور جنگوں نے ان لوگوں کو اپنے ٹھکانے بدلنے اور آبائی علاقے چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور یوں ستّر کی دہائی میں صدیوں پرانے ان مندروں میں ویرانی نے بسیرا کر لیا۔

تھرپارکر کا گوری مندر اپنے منفرد اور قابلِ توجہ طرزِ تعمیر کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔ جین مت کے سبھی مندروں میں مضبوط ستون، دیواریں، منقش محرابیں اور اندر چھت پر سنگ تراشی کے نمونے دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان مندروں میں دیواروں پر پتھروں کو تراش کر مختلف تصاویر بھی بنائی گئی ہیں۔

fb-share-icon0

Tweet
20

Comments

comments




Source link

About Raja

Check Also

عاصم اظہر نے صبا قمر کو ‘استاد جی’ کا لقب دے دیا

پاکستانی فلم و ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ صبا قمر نے گلوکاری کی دنیا میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *