دنیا کی سب سے مہنگی اور خوبصورت بھیڑ نے ریکارڈ قائم کردیا –

اسکاٹ لینڈ : دنیا کی سب سے مہنگی بھیڑ سامنے آئی ہے جس کی قیمت کروڑوں روپے ہے، چھ ماہ کی اس نایاب بھیڑ نے سال 2009میں بننے والا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈبل ڈائمنڈ نامی ٹیکسل نسل کی اس بھیڑ کو دنیا کی مہنگی ترین بھیڑ کا اعزاز حاصل ہو گیا ہے، اسکاٹ لینڈ میں لگنے والی بولی میں اس بھیڑ کو تین لاکھ اڑسٹھ ہزار پاؤنڈ یعنی ( تقریباً آٹھ کروڑ بائیس لاکھ روپے) کے عوض خریدا گیا ہے۔

چھ ماہ کی یہ بھیڑ بریڈنگ کے شعبے سے وابستہ چارلی بوڈن کی ملکیت تھی اور انہوں نے یہ ایک شیپ فارمرز کنسورشیم کو فروخت کی ہے۔ اسکاٹش نیشنل ٹیکسل سیل میں اس بھیڑ کی بولی کا آغاز دس ہزار پاؤنڈ میں ہوا لیکن وہاں موجود متعدد پارٹیاں ایک دوسرے سے بڑھ کر بولی لگاتی رہیں اور اس بھیڑ کی قیمت بڑھتی گئی۔

ڈبل ڈائمنڈ نامی اس بھیڑ کو تین کسانوں کے ایک کنسورشیم نے خریدا ہے، جنہیں امید ہے کہ وہ اس بھیڑ سے مزید بھیڑوں کی بریڈنگ کریں گے اور ان کی سرمایہ کاری منافع بخش کاروبار میں تبدیل ہو سکے گی۔

جیف ایکن ایک فارم منیجر ہیں اور وہ بھی خریداروں میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا، اگر بریڈنگ کی بات کی جائے تو پھر چھوٹی چھوٹی خصوصیات کو بھی دیکھنا پڑتا ہے، بال، رنگ، سر کی بناوٹ، سب کچھ ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ منفرد جینیات حاصل کرنے کے لیے ہمیں اتنی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ فارمنگ سے منسلک افراد کو ان دنوں معاشی مسائل کا بھی سامنا ہے، بہت ہی کم ایسے فارمر ہوتے ہیں، جو اتنی زیادہ رقم ادا کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔

قبل ازیں اسی طرح سن دو ہزار نو میں ایک بھیڑ دو لاکھ تیس ہزار پاؤنڈ میں فروخت ہوئی تھی لیکن اس مرتبہ وہ عالمی ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا ہے۔ ٹیکسل نسل کی بھیڑیں ہالینڈ کے ایک چھوٹے سے جزیرے ٹیکسل سے تعلق رکھتی ہیں۔

ٹیکسل شیپ سوسائٹی کے مطابق بریڈنگ کے لیے عام طور پر ایک بھیڑ کی فروخت ہزاروں یورو یا لاکھوں روپے میں ہوتی ہے۔ ٹیکسل نسل کی بھیڑوں کا اصل اوریجن نامعلوم ہے لیکن گوشت کے حوالے سے انہیں بہترین قرار دیا جاتا ہے۔

ڈچ ٹیکسل بھیڑوں نے اپنے اعلیٰ معیار کی وجہ سے ستر کی دہائی میں انگلش بریڈرز کی توجہ حاصل کی تھی لیکن اس وقت قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کی درآمد ممکن نہ ہوسکی تھی اور انگلش بریڈرز نے فرانسیسی بھیڑوں کی تجارت شروع کی، تاہم اسی عشرے کے اواخر میں برطانوی قوانین تبدیل ہوئے تو اس نسل کی بھیڑوں کی تجارت ممکن ہو سکی۔

یہ نسل برطانوی فوڈ مارکیٹ سے بہت مطابقت رکھتی ہے، یہ نہ صرف سخت موسم کو آسانی سے برداشت کر لیتی ہے بلکہ انتہائی مناسب وقت میں اس قدر بڑی ہو جاتی ہے کہ اسے برطانوی مذبح خانوں میں فروخت کرتے ہوئے منافع کمایا جا سکتا ہے۔

0

Tweet
20

Comments

comments




Source link

About Raja

Check Also

ننھی گلہری کی سردیاں گزارنے کے لیے معصوم حرکت، لیکن گاڑی مالک مشکل میں پڑ گیا –

شمالی ڈکوٹا: امریکا میں ایک ننھی گلہری نے سردیاں گزارنے کے لیے ایک ایسی معصوم …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *