زہرِ عشق اور شوقؔ! –

[ad_1]

زہرِ عشق، نواب مرزا شوقؔ لکھنوی کی مشہور مثنوی ہے جو اختصار، وفورِ شوق و شدّتِ جذبات، زبان و بیان کی سادگی، محاورات کی برجستگی، مکالمہ نگاری کے ساتھ معاشرت و تہذیب کی بھرپور عکاس ہے۔

یہ دراصل ایک مختصر عشقیہ داستان ہے جسے شوق نے اشعار میں باندھا ہے۔ اس میں نہ بہت سے مناظر ہیں اور نہ ہی کرداروں کی بھرمار، نہ مافوق الفطرت عناصر ہیں اور نہ ہی بادشاہ و ساحر، اس کے باوجود مرزا شوقؔ نے اس انداز سے قصّہ بیان کیا ہے کہ اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

انھوں نے لکھنؤ کی بیگماتی زبان، ضربُ الامثال اور محاورات کو فن کارانہ انداز سے بیان کرنے کے ساتھ ساتھ لکھنؤ کی معاشرتی جھلکیوں کو جس لطیف پیرایہ میں سمویا ہے، قابلِ دید ہے۔ اس طویل مثنوی سے چند بند نمونہ کے طور پر نقل کیے جارہے ہیں۔

ایک قصہ غریب لکھتا ہوں
داستانِ عجیب لکھتا ہوں
تازہ اس طرح کی حکایت ہے
سننے والوں کو جس سے حیرت ہے
جس محلے میں تھا ہمارا گھر
وہیں رہتا تھا ایک سوداگر
مردِ اشراف صاحب دولت
تاجروں میں کمال ذی عزت
غم نہ تھا کچھ فراغ بالی سے
تھا بہت خاندان عالی سے
ایک دختر تھی اس کی ماہ جبیںؔ
شادی اس کی نہیں ہوئی تھی کہیں
ثانی رکھتی نہ تھی وہ صورت میں
غیرتِ حور تھی حقیقت میں
سبز نخلِ گلِ جوانی تھا
حسنِ یوسف فقط کہانی تھا

تھا جو ماں باپ کو نظر کا ڈر
آنکھ بھر کر نہ دیکھتے تھے ادھر
تھی زمانے میں بے عدیل و نظیر
خوش گلو، خوش جمال خوش تقریر
تھا نہ اس شہر میں جواب اس کا
حسن لاکھوں میں انتخاب اس کا

روح گر ماں کی تھی تو باپ کی جاں
نور آنکھوں کا دل کا چین تھی وہ
راحت جانِ والدین تھی وہ

نقّادوں نے اس کی ادبی حیثیت اور محاسن کا اعتراف کرتے ہوئے خیال کیا ہے کہ مثنوی میں‌ بیان کردہ واقعہ بھی سچّا ہے۔

نواب مرزا شوقؔ کے مختصر حالاتِ زندگی کچھ یوں ہیں کہ اصل نام حکیم تصدق حسین تھا، نواب مرزا عرفیت اور شوقؔ تخلص، خاندانی پیشہ طبابت تھا۔

وہ 1783ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ غزل گوئی سے شعری سفر شروع کیا اور واجد علی شاہ کے دربار سے وابستہ رہے ۔1871ء کو لکھنؤ ہی میں وفات پاگئے۔

Comments



[ad_2]
Source link

About

Check Also

عاصم اظہر نے صبا قمر کو ‘استاد جی’ کا لقب دے دیا

[ad_1] پاکستانی فلم و ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ صبا قمر نے گلوکاری کی دنیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *