علی سردار جعفری کا ایک خط جگن ناتھ آزاد کے نام –

ایک زمانہ تھا جب خطوط نگاری اور پیغام رسانی کے لیے ڈاک کا سہارا لیا جاتا تھا اور خاص و عام سبھی سلام و پیام، اپنا مدعا، غرض اور حال احوال خط میں‌ بیان کرتے اور دور دراز بسنے والوں تک پہنچاتے تھے۔

اردو ادب میں اپنے وقت کے نام ور ادیب، شعرا اور علم و فنون سے وابستہ کے اکثر خطوط کو خاص اہمیت اور ایک دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔ پیشِ نظر خط ہندوستان کے مشہور انقلابی شاعر اور ترقی پسند ادیب علی سردار جعفری کا ہے جو انھوں نے معروف شاعر اور تخلیق کار پروفیسر جگن ناتھ آزاد کے نام تحریر کیا تھا۔

برادرم آزاد تسلیم

ایک عرصے سے آپ کی خیریت معلوم نہیں ہوئی۔ اب شاید ملاقات کی صورت پیدا ہوئی ہے۔ 23 ستمبر کو جالندھر میں ٹیلی ویژن کا ایک مشاعرہ ہے۔ میں شریک ہورہا ہوں۔ یقین ہے کہ آپ بھی مدعو ہوں گے۔

وہاں سے میں آٹھ دس دن کے لیے جموں آنا چاہتا ہوں۔ وسط اکتوبر میں دہلی یونیورسٹی میں نظام خطبات پیش کرنے ہیں، لیکن ابھی تک ایک خطبہ بھی مکمل نہیں کرسکا۔ وجہ یہ ہے کہ بمبئی میں مکروہات بہت زیادہ ہیں۔ اگر یونیورسٹی کے مہمان خانے میں آٹھ دس دن کے لیے ایک کمرہ مل جائے تو وہاں بیٹھ کر خطبات لکھ لوں گا۔ 11 اکتوبر کو سری نگر میں کشمیر یونیورسٹی کی طرف سے بھی مشاعرہ ہے۔ اس میں بھی شریک ہونا ہے۔

میں نے اپنی منظوم آپ بیتی نومبر میرا گہوارہ کے کچھ اور حصے لکھے ہیں۔ جموں کی آب و ہوا راس آئی تو شاید کچھ اور تخلیق ہوجائے۔ آپ تو اس زمانے میں وہاں ہوں گے۔ ملاقات ہوتی رہے گی۔

میں نے یونیورسٹی کے مہمان خانے میں کمرہ کے لیے وائس چانسلر صاحب کو خط نہیں لکھا ہے۔ آپ میری طرف سے بات کرکے انتظام کر دیجیے اور مجھے تار کے ذریعے سے اطلاع دے دیجیے کہ انتظام ہوگیا۔ میں 19 ستمبر تک بمبئی میں رہوں گا۔ 20 کو دہلی پہنچ جاؤں گا اور دوگل کے گھر قیام کروں گا۔ 22 کی شام تک جالندھر۔ مشاعرہ 23 کو ہے۔ اس کے معنی ہیں کہ آپ 24 سے31 ستمبر تک کے لیے کمرے کا انتظام کردیجیے۔

کراچی سے صہبا لکھنوی کا پیام آیا ہے۔ ”افکار” کے سردار جعفری نمبر کے لیے یہاں کے مضامین مانگ رہے ہیں۔ کچھ چیزیں ان کے پاس پہنچ گئی ہیں، مثلاً ڈاکٹر وحید اختر کا مضمون۔ آپ کا مضمون اب تک نہیں ملا ہے۔ آپ نے شاید کوئی مضمون میرے جموں کے قیام پر لکھا ہے سہیل کے لیے۔ اگر آپ نیا مضمون نہ لکھیں تو وہ پاکستان میں بھی شایع ہوسکتا ہے۔

کشمیر کے کوئی نصرت چودھری ہیں، ان کا ایک انٹرویو جو انہوں نے فیض سے لیا ہے کتاب نما کے تازہ شمارہ میں شایع ہوا ہے۔ انہوں نے ایک سوال یہ بھی کیا کہ ”سردار جعفری کی آج کی شاعری پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ آ پ کے رنگ میں شاعری کررہے ہیں۔ ”فیض نے اپنے انداز میں اس کی تصدیق بھی کی اور یہ بھی اشارہ کردیا کہ آج کے دور میں سب شعرا انہی کے رنگ میں شاعری کررہے ہیں۔ انٹرویو پڑھ کر جی خوش ہوا۔سوچا کہ اس مسرت میں آپ کو بھی شریک کرلوں۔

امید ہے کہ آپ بخیریت ہوں گے ۔

آپ کا
سردار جعفری

پس نوشت: پوری صاحب سے میرا سلام کہیے گا۔ شعبہ اردو کے تمام احباب کو بھی آداب۔ کالرا صاحب کا عید کارڈ آیا تھا اس کا شکریہ اب تک ادا نہیں کیا۔ اب آؤں گا تو ذاتی طور سے شکریہ ادا کردوں گا۔

Comments




Source link

About Raja

Check Also

عاصم اظہر نے صبا قمر کو ‘استاد جی’ کا لقب دے دیا

پاکستانی فلم و ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ صبا قمر نے گلوکاری کی دنیا میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *