پاکستان پر عالمی سفری پابندیوں میں توسیع کا اعلان

[ad_1]

اسلام آباد : عالمی ادارہ صحت نے پولیو کے باعث پاکستان پر سفری پابندیوں میں 3 ماہ کی توسیع کردی اور کہا پاکستان اور افغانستان پولیو کے عالمی پھیلاؤ کیلئے بدستور خطرہ ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے پاکستان پر سفری پابندیاں برقرار رکھنے کا فیصلہ کرلیا اور پولیو کے باعث پاکستان پر سفری پابندیوں میں 3 ماہ کی توسیع کردی۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا پاکستان، افغانستان پولیو کے عالمی پھیلاؤ کیلئے بدستور خطرہ ہیں، ڈبلیو ایچ او کی ایمرجنسی کمیٹی برائے پولیو کی پابندیوں میں توسیع کی سفارش کی تھی۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کی ہنگامی پولیو کمیٹی کا تیسواں اجلاس 9 نومبر کو ہوا، جس میں چین، افغانستان، پاکستان میں پولیو صورتحال پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں ڈبلیو ایچ او نے پولیو صورتحال اور متاثرہ ممالک کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ میں نمایاں کمی آئی ہے ، پاکستان کے سیوریج میں وائرس کی موجودگی میں نمایاں کمی آئی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ پاکستان میں رواں برس پولیو کا ایک کیس سامنے آیا ہے ، پاکستان میں پولیو ویکسینیشن سے انکاری والدین اور پاکستانی حساس ایریاز میں پولیو ویکسین سے محروم بچے چیلنج ہیں۔

اعلامیے کے مطابق پولیو ویکسین سے محروم بچوں کیلئے پاکستانی انتظامات تسلی بخش ہیں، پاکستان پولیو ویکسین سے محروم بچوں کیلئے خصوصی اقدامات کر رہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کی پاکستان منتقلی پولیو کے پھیلائو کا زریعہ بن سکتی ہے، پاکستانی بے گھر افراد اور مہاجرین پولیو کے حوالے سے خطرہ ہیں جبکہ پولیو ویکسین سے محروم افغان بچے پاکستان کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ پاکستان کی پولیو بارے سرویلنس مزید تین ماہ جاری رہے گی، پاکستان سے بیرون ملک جانے والے افراد کی پولیو ویکسینیشن لازمی ہو گی، ڈبلیو ایچ او تین ماہ بعد انسداد پولیو کیلئے پاکستانی اقدامات جانچے گا۔

خیال رہے پاکستان پر پولیو کی وجہ سے سفری پابندیاں مئی 2014 میں عائد ہوئی تھیں۔

Comments



[ad_2]
Source link

About Raja

Check Also

وفاقی کابینہ کا سیالکوٹ واقعے میں ملوث افراد کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

[ad_1] اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اراکین …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *