کرونا مریضوں کو موت سے بچانے والی دوا کیسے کام کرتی ہے؟ –

لندن: برطانوی ماہرین اور وزارتِ صحت نے کرونا وائرس کے علاج کے لیے دوا تلاش کرلی جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ تشویشناک مریضوں کو  نئی زندگی دے سکتی ہے۔

بین الاقوامی طبی ماہرین کے مطابق کرونا وائرس انسانی جسم میں داخل ہونے کے بعد مدافعتی نظام کو مکمل تباہ کردیتا ہے جس کی وجہ سے نظام تنفس پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کرونا پھیپھڑوں پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے جس کی وجہ سے مریض کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شعبہ طب کی زبان میں اس کیفیت کو ’کائن اسٹورم‘ بھی کہتے ہیں۔

طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ متاثرہ شخص وائرس کی وجہ سے نہیں مرتا بلکہ کرونا جسم میں داخل ہوکر شدید ردعمل دیتا ہے جس کی وجہ سے اُس کی موت واقع ہوتی ہے۔

ڈیکسا میتھاسون کب تیار ہوئی؟

طبی ماہرین نے کرونا کے مریضوں کے لیے جو دوا تلاش کی اُس کا نام ڈیکسا میتھاسون ہے، اس دوا کو پہلی بار 1957 میں تیار کیا گیا اورچار سال کے تجربے کے بعد اس کے استعمال کی منظوری دی گئی۔

ڈیکسامیتھاسون کیسے کام کرتی ہے؟

برطانوی ماہرین کے مطاق ڈیکسا میتھاسون ایک ایسی دوا ہے جو انسانی جسم کے مدافعتی نظام سے خارج ہونے والے مضر مادوں کو کنٹرول کرتی ہے اور یہ آنتوں سمیت جسم کے دیگر اندورنی حصوں میں ہونے والی سوزش کو بھی ختم کرتی ہے۔

مکمل تفصیل پڑھیں: بڑی پیشرفت: کرونا مریضوں کی جان بچانے والی دوا دریافت

ڈیکسا میتھاسون کو دو بنیادی کام کرتی ہیں وہ کرونا کے مریضوں کے لیے بہت زیادہ فائدے مند ہیں۔

یہاں یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ ڈیکسامیتھاسون کوئی نئی دوا نہیں بلکہ یہ گزشتہ 59 برس سے کروڑوں مریضوں کو دی جاتی چکی ہے اور سب سے اہم یہ کہ اس کے مضر اثرات کی معلومات بھی پہلے سے موجود ہیں۔

برطانوی ماہرین نے کرونا مریضوں پر اس دوا کی آزمائش مارچ کے ابتدا میں شروع کی، جس کے بعد اسے تین مراحل سے گزارا گیا اور پھر مریضوں کی صحت کو دیکھا گیا۔

0

Tweet
20

Comments

comments




Source link

About Raja

Check Also

کیا اومیکرون پانچ سال سے کم عمر بچوں میں بھی تیزی سے پھیلتا ہے؟ –

کیپ ٹاؤن: کیا اومیکرون پانچ سال سے کم عمر بچوں میں بھی تیزی سے پھیلتا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *