کرونا وائرس نے جینیاتی نظام میں تبدیلیاں کر کے خود کو مزید طاقت ور کر لیا: انکشاف –

[ad_1]

فلوریڈا: محققین نے نئے کرونا وائرس کو وِڈ 19 سے متعلق ایک تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ کرونا وائرس نے جینیاتی نظام میں تبدیلیاں کر کے خود کو مزید طاقت ور بنا لیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست فلوریڈا میں اسکرپرز ریسرچ (Scripps Research) کے محققین نے کہا ہے کہ نیا کرونا وائرس پہلے سے زیادہ متعدی ہو گیا ہے، کو وِڈ نائنٹین نے اپنے اندر ایسی تبدیلیاں پیدا کر لی ہیں جو اسے آسانی سے انسانی خلیات کو متاثر کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے جینیاتی نظام میں ایسی تبدیلیاں آئی ہیں جن سے وہ مزید طاقت ور ہو گیا ہے، یہ تبدیلیاں وائرس کے اوپری ساخت اسپائک پروٹین میں آئی ہیں، جسے وائرس انسانی خلیات میں داخل ہونے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

لیبارٹری تجربات کے دوران محققین نے مشاہدہ کیا کہ ایک خاص قسم کی (ڈی 614 جی) میوٹیشن کی وجہ سے کرونا وائرس میں اسپائک یا کانٹے بڑھ گئے ہیں، یہ کانٹے زیادہ مستحکم نظر آئے، محققین نے بتایا کہ اس تبدیلی کی وجہ سے وائرس اب انسانی خلیات میں زیادہ آسانی سے داخل ہو سکتا ہے۔

محققین نے کہا کہ جینیاتی تبدیلیوں کے بعد وائرس زیادہ متعدی ہو جاتے ہیں، یعنی زیادہ تیزی سے پھیلتے ہیں، اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ امریکا اور لاطینی امریکی ممالک میں یہ وائرس بڑی تیزی سے پھیلا، تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، یعنی ان تبدیلیوں کو مزید سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ریسرچرز نے ابھی یہ بات معلوم نہیں کی ہے کہ تبدیلی کے بعد وائرس زیادہ جان لیوا بنا ہے یا نہیں، تاہم یہ معلوم کیا گیا ہے کہ جنوری کے وسط میں وائرس کے اندر ایک تبدیلی رونما ہوئی تھی جس سے یہ مزید (دس گنا) تیزی سے پھیلنے لگا، یہ تبدیلیاں اب 3 مختلف تجربات میں ثابت ہو گئی ہیں۔

واضح رہے کہ یورپ اور امریکا میں کرونا وائرس کی جو قسم تیزی سے پھیلی ہے وہ وائرس کی تبدیل شدہ قسم ہے جسے محققین نے ڈی 614 جی کا نام دیا، اس تبدیلی کی وجہ سے وائرس آسانی سے خلیات پر قبضہ جمانے لگا ہے، وائرس کے داخل ہونے سے خلیات وائرل فیکٹریوں میں بدل جاتے ہیں جہاں وائرس کی مزید نقول بننے لگتی ہیں۔

کرونا وائرس کے مختلف ٹائپ

ریسرچ کے دوران کو وِڈ 19 کے ایک ہزار سے زائد مکمل جینومز کا مشاہدہ کیا گیا، جینیاتی تبدیلیوں کی بنیاد پر وائرس کو ٹائپ اے، بی اور سی میں تقسیم کیا گیا۔ ان میں سے ٹائپ اے چمگادڑوں سے پینگولین اور پھر وہاں سے انسانوں میں پہنچا، یہ چینی و امریکی شہریوں میں پایا گیا، اس کا تبدیل شدہ ورژن آسٹریلیا تک پہنچا۔ لیکن دل چسپ بات ہے کہ چینی شہر ووہان میں زیادہ تر کیسز میں یہ ٹائپ اے نظر نہیں آیا۔

ریسرچرز کے مطابق ووہان کے شہریوں میں زیادتہ تر ٹائپ بی وائرس متحرک تھا، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ٹائپ اے وائرس میں یہاں میوٹیشن یعنی تبدیلی رونما ہوئی اور یہ ٹائپ بی میں بدل گیا۔

اس کے بعد ٹائپ بی سے ہی ٹائپ سی نے جنم لیا لیکن چین میں اس کے آثار نہیں ملے بلکہ یہ یورپ، جنوبی کوریا، سنگاپور اور ہانک کانگ میں دکھائی دیا۔

واضح رہے کہ اب تک جمع کیے جانے والے ڈیٹا کے مطابق کرونا وائرس کی وبا 13 ستمبر 2019 سے 7 دسمبر کے درمیان پھیلنا شروع ہوئی، سائنس دان یہ بھی انکشاف کر چکے ہیں کہ اس کا آغاز جیسا کہ کہا جاتا ہے، ووہان سے نہیں ہوا، کیوں کہ وہاں مریضوں میں ٹائپ اے نہیں بلکہ ٹائپ بی وائرس تھا، یعنی تبدیل شدہ قسم۔

fb-share-icon0

Tweet
20

Comments

comments



[ad_2]
Source link

About Raja

Check Also

انسٹاگرام اور میسنجر ایک ہونے کے قریب –

[ad_1] سماجی رابطے کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک نے اپنے پلیٹ فارمز کو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *