کم مٹاپے اور کرونا اموات کا گہرا تعلق سامنے آگیا –

روم: اٹلی کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ تھوڑا سا مٹاپا شدید کرونا وائرس اور موت کا سبب بن سکتا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق اٹلی کے  ماہرین نے مٹاپے اور کرونا وائرس سے ہونے والی اموات کے درمیان تعلق کا معلوم کرنے کے لیے تحقیقی مطالعہ کیا جس کے نتائج یورپین جنرل آف اینڈور ائنولوجی میں شائع کیے گئے۔

اٹلی کی الما میٹر اسٹڈورم یونیورسٹی  آف بولونگا کے ماہرین نے سانٹ اورسولا اسپتال میں زیر علاج مریضوں کا ڈیٹا جمع کیا اور  پھر اس پر تحقیق کی۔

ماہرین نے تحقیق کے دوران 482 مریضوں کی صحت کا جائزہ لیا۔ تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایسے لوگ جن کا باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) 30 ہے اُن کو کرونا کی صورت میں سانس لینے میں زیادہ دشواری ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: مٹاپے کا شکار افراد کرونا وائرس کا آسان ہدف

ماہرین کے مطابق ایسے مریض جن کا بی ایم آئی 35 تھا اُن کی کرونا سے موت کے امکانات بہت زیادہ تھے۔

واضح رہے کہ جسم میں اضافی چربی، کولیسٹرول کو باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی)  کہا جاتا ہے، جس کا بی ایم آئی 18.5 سے 25 اُسے نارمل وزن والے شخص میں شمار کیا جاتا ہے جبکہ جس کا 18.5 کلوگرام سے کم وزن ہو اُسے  کمزور سمجھا جاتا ہے۔

محققین کے مطابق مٹاپے کا شکار کرونا وائرس کے مریضوں میں سے 52 فیصد کو سانس لینے میں مشکلات کا سامنا تھا، ان میں سے 36 فیصد مریضوں کو انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل کیا گیا جب کہ ایک چوتھائی مریضوں کو وینٹی لیٹر کے ذریعے مصنوعی سانس بھی فراہم کی گئی۔

تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مٹاپے کا شکار افراد کو اگر کرونا کی تشخیص ہو تو وہ علامات ظاہر ہونے کے ایک مہینے کے اندر ہی دم توڑ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: موٹے، کمزور یا درمیانے، کرونا وائرس کس جسامت کے شخص کے لیے خطرہ ہے؟

تحقیقی ٹیم کے سربراہ  اور الما میٹر اسٹڈورم یونیورسٹی کے ڈاکٹر میٹیو روٹولی کا کہنا تھا کہ مٹاپے سے کسی بھی شخص میں دوسری بیماریوں کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں‌ نے بتایا کہ اضافی وزن والا شخص ٹائپ ٹو ذیابیطس، امراض قلب اور کینسر جیسی بیماریوں میں مبتلا ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر میٹیو کا کہنا تھا کہ ’ہماری تحقیق میں یہ بات واضح ہوئی کہ کم مٹاپا بھی کرونا مریضوں کے لیے بہت زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے‘۔

0

Tweet
20

Comments

comments




Source link

About Raja

Check Also

کیا اومیکرون پانچ سال سے کم عمر بچوں میں بھی تیزی سے پھیلتا ہے؟ –

کیپ ٹاؤن: کیا اومیکرون پانچ سال سے کم عمر بچوں میں بھی تیزی سے پھیلتا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *