یہ کیسے سر پھرے لوگ ہیں؟
یہ کیسے سر پھرے لوگ ہیں؟

یہ کیسے سر پھرے لوگ ہیں؟

[ad_1]

دنیا بڑی باوری پتّھر پُوجن جائے
گھر کی چاکی کوئی نہ پُوجے، جس کا پِیسا کھائے

عجیب ہے یہ دنیا اور عجیب تر ہیں اس کے باسی۔ لیکن اسی انبوہ کثیر میں کچھ سرپھرے نمایاں ہوجاتے ہیں، ایسے نمایاں کہ پھر جدھر دیکھیے وہی نظر آتے ہیں، ایسے سرپھرے کہ کوئی بھی ان کی راہ کھوٹی نہیں کرسکتا۔ کہلاتے وہ گم راہ ہیں، اور اسی لیے قدامت پسندوں کی نظر میں راندہ درگاہ ہوتے ہیں، لیکن راست باز تو وہی ہوتے ہیں۔

عجیب لوگ ہوتے ہیں ایسے لوگ، زمین کا نمک۔ ایسے جو انسانیت کو اپنا کنبہ کہتے ہیں، ان کا مذہب تکریم انسانیت ہوتا ہے اور وہ ان کے حقوق کے پرچم بردار ہوتے ہیں۔ وہ کوئی جوہڑ نہیں ہوتے، نہ ہی کوئی جھیل اور دریا، وہ تو سمندر ہوتے ہیں، محبتوں کا سمندر، ان کی لغت میں قوم، مذہب، قبیلہ، خطہ نہیں ہوتا۔ عالم گیر فکر انسانیت کے علم بردار۔ یہ جو خود فراموشی ہے، یہ ویسے ہی نہیں مل جاتی، بہت کچھ اور کبھی کبھی تو اپنا سب کچھ قربان کردینے کے صلے میں ملتی ہے، ہر کس و ناکس کو نہیں کہ یہی تو جوہرِِ انسانیت ہے کہ جب تک خود کو فراموش نہ کیا جائے، کسی اور کا درد محسوس ہی نہیں ہوتا۔

صوفیا اس منزل کو ”نفی ذات“ کہتے ہیں اور یہی مطلوب ہوتا ہے۔ خیر، ہم کوئی اور بات کر رہے تھے، تو وہ جو کہا گیا ہے ناں کہ لوگوں نے آوازے کسے، طعنے دیے، فتوے جڑے، ایسے سخت جان کہ وہ سخت جاں ہنستا رہا، ہنستا رہا اور بس اپنی طے کردہ منزل کے راستے پر، خارزار راستے پر چلتا رہا، چلتا رہا۔ آبلہ پائی جیسا لفظ تو ان کی کفالت ہی نہیں کرتا، وہ تو مجسم مصلوب ہوتے ہیں، سنگ زنی میں بھی رقصاں، اور سنگ کا کیا صاحب، وہ تو پتھر ہیں سو اچھالا گیا پتھر کہیں سے بھی مضروب کرسکتا ہے، اپنی سولی آپ اٹھائے ہوئے مصلوب، ”سرِ بازار می رقصم“ کا گیت گاتے بس اپنے راستے پر رقص بسمل کرتے ہوئے رواں اور دواں۔

عجیب لوگ ہوتے ہیں ایسے سرپھرے لوگ، زمین کا نمک…..ایسے جو انسانوں کو دو طرح سے دیکھتے ہیں۔ یہ طارق عزیز کس وقت یاد آئے:

منڈھ قدیم توں دنیا اندر، دو قبیلے آئے نیں
ہک جنہاں نے زہر نے پیتے، ہک جنہاں نے پیائے نیں

ہاں ایسا ہی ہے، ایک ظالم اور دوسرا مظلوم۔ ظالم اور اس کے سامنے مظلوم کے حق میں نغمہ سرا، اور آپ تو جانتے ہی ہیں ناں جب کوئی مظلوم کے حق میں نغمہ سرا ہو، تو حُسین بنتا ہے، کربلا کا حسین اور پھر اس کے قبیلے کے لوگ نوک سناں پر بھی مظلوم کا ساتھ دیتے ہوتے نغمہ سرا ہوتے ہیں، عجیب قبیلہ ہے یہ، اچھا تو آپ جانتے ہیں یہ سب کچھ……!

تو پھر یہ بھی جانتے ہی ہوں گے کہ جب بھی اور جہاں بھی اور کوئی بھی مظلوم کا ساتھ دے گا، انہیں گلے لگائے گا، انہیں زمین سے اٹھائے گا اور اپنا حق مانگنے نہیں، چھیننے پر اکسائے گا تو وہ زمینی خداؤں کے عتاب کا شکار تو ہوگا ہی، یہ دوسری بات کہ ان دیوتاؤں کے نام الگ الگ ہوں گے، ہر دور میں بدلتے ہوئے نام، گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہوئے، کوئی مذہبی، کوئی ریاستی اور کوئی………
پھر انجام کیا ہوتا ہے، اس کے سوا کیا کہ:

ہوں جب سے آدمِ خاکی کے حق میں نغمہ سرا
میں دیوتاؤں کے بپھرے ہوئے عتاب میں ہوں

عبداللطیف ابُوشامل کے مضمون سے چند سطور

0

Tweet
20

Comments

comments

[ad_2]

Source link

About Raja

Check Also

عاصم اظہر نے صبا قمر کو ‘استاد جی’ کا لقب دے دیا

[ad_1] پاکستانی فلم و ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ صبا قمر نے گلوکاری کی دنیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *