Builders pay six times lower tax under PM’s Construction Package

پاکستان فیڈرل بیورو آف ریونیو(ایف بی آر) کے سینئر عہدیدار عبدالحفیظ شیخ نے بلڈر اور ڈویلپرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ “اگر آپ وزیراعظم پیکیج فکسڈ ٹیکس رجیم کے تحت اندراج کرتے ہیں تو آپ ٹیکسوں پر لگ بھگ 6 گنا بچت کرسکتے ہیں۔”

حفیظ شیخ نے بتایا کہ وزیراعظم پیکیج فکسڈ ٹیکس رجیم کے تحت لوگ اپنے قانونی طور پر حاصل کردہ رقم کو بھی سفید کرسکتے ہیں۔ جس کا مطلب انہیں اپنے پیسے کی ٹریل نہیں دینا پڑے گی البتہ غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی رقم یا رشوت کے ذریعے وصول کی جانے والی رقم کو اس عمل کے ذریعے سفید نہیں کیا جاسکتا۔

حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم پیکیج فکسڈ ٹیکس رجیم سے حکومتی ملازمین فائدہ نہیں اٹھاسکیں گے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عارضی اسکیم ان افراد کے لیے ہے جو لوگ قانونی ذرائع سے رقم کماتے اور بچاتے ہیں لیکن اس پر ٹیکس ادا نہیں کرتے ہیں۔

حفیظ شیخ نےمزید کہا کہ ایف بی آر اہلکار ملک بھر میں بلڈرز اور ڈویلپرز تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ انہیں ان ہاؤسنگ پیکیج کے فوائد کے بارے میں آگاہ کیا جاسکے۔ ہم دیگر شہروں کے بلڈرز اور ڈویلپرز کو بھی مدعو کریں گے جس سے وہ پیکج پر واضح ہوسکیں اور حکومت معیشت کی بحالی کا ہدف حاصل کرسکے۔

اس موقع پر ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سے سوال کیا گیا کہ ایف بی آر کی اس اسکیم میں کتنے افراد نے خود کو رجسٹرڈ کیا تو انہوں نے تعداد بتانے سے انکار کردیا۔ انہوں کہا کہ یہ معلومات آپ کے ساتھ شیئر نہیں کرنے کا پابند نہیں کیونکہ یہ ایک عام معافی اسکیم ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اب تک کا ردعمل حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔

تحقیقی تجزیہ کار بھی حکومت کی طرف سے پیش کیے جانے والے پُرجوش تعمیراتی پیکج کو اعلیٰ سیمنٹ کی فروخت کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ تعمیراتی پیکیج کا ہدف معیشت کو فروغ دینا ہے۔ بلڈرز اور ڈویلپرز 31 دسمبر 2020 تک اس پیکیج میں اندراج کرسکتے ہیں۔

ایف بی آر نے نئے پروجیکٹ میں وہ لوگ شامل ہوسکتے ہیں جس کے کام کی مدت 17 اپریل 2020 سے شروع ہوتی ہے اور 31 دسمبر 2020 کو اختتام پذیر ہوتی ہے یا 30 ستمبر 2020 تک یا اس سے پہلے مکمل ہوتی ہے۔

عبدالحفیظ نے کہا کہ 3منزلہ 100 یارڈ، یا 900 مربع یارڈ اپارٹمنٹس کی مثال بھی پیش کی اور بتایا کہ بلڈز کو پی ایم کنسٹرکشن پیکیج اسکیم کے تحت 6 گنا کم ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔

یاد رہے کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (این اے پی ایچ ڈی اے) کے تیار کردہ ہاؤسنگ پروجیکٹس میں کم لاگت والے رہائشی منصوبوں پر بھی لگ بھگ 90 فیصد کم ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

اس موقع پر آباد بلڈز کے چیئرمین فیاض الیاس نے حکومت سے اسکیم کی تاریخ میں مزید ایک سال کی توسیع کی درخواست کی تاہم حکومت اس اسکیم میں توسیع نہیں کرسکتی ہے۔

کورونا وائرس کے باعث بگڑتی معاشی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کو عارضی طور پر معطل کردیا تھا لیکن توقع ہے کہ یہ جنوری سے دوبارہ شروع ہوجائے گا۔


Source link

About Raja

Check Also

انکم ٹیکس ریٹرن کی تاریخ میں 15 یوم کی توسیع ‏ –

وزیرخزانہ شوکت ترین نے انکم ٹیکس ریٹرن کی تاریخ میں 15 یوم کی توسیع کا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *